16 ستمبر 2026 - 15:40
فرانسوی مسلمان خواتین میں حجاب کا رجحان بڑھ گیا، مذہبی شناخت پر فخر نمایاں

فرانس میں نوجوان مسلمان خواتین میں حجاب اختیار کرنے کا رجحان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 18 سے 24 سال کی مسلمان خواتین میں حجاب کرنے والی خواتین کی شرح 2003 میں 16 فیصد تھی جو 2025 میں بڑھ کر 45 فیصد ہوگئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانس میں حجاب اختیار کرنے والی نوجوان مسلمان لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رجحان بظاہر صرف خاندانی روایات یا والدین سے مذہبی عقائد اور معمولات کی منتقلی تک محدود نہیں ہے۔

الجزیرہ نیٹ کے مطابق، ماہر عمرانیات اور مصنف طارق یلدز نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ بعض نوجوان فرانسیسی مسلمان لڑکیوں کے لیے حجاب مذہبی شناخت کے اظہار اور اسلام سے وابستگی پر فخر کا ذریعہ بن گیا ہے۔

نوجوان نسل میں حجاب کا بڑھتا رجحان

انہوں نے فرانسیسی ادارے ایفوپ کے ایک سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں 18 سے 24 سال کی 45 فیصد مسلمان فرانسیسی خواتین نے کہا کہ وہ حجاب کرتی ہیں، جبکہ 2003 میں یہ شرح 16 فیصد تھی۔

اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران 50 سال سے زائد عمر کی مسلمان فرانسیسی خواتین میں حجاب کرنے کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی۔ یلدز کے مطابق یہ فرق نسلوں کے درمیان ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

حجاب؛ مذہبی شناخت اور وابستگی کی علامت

نوجوان لڑکیاں لازماً حجاب کو صرف اپنی ماؤں سے ملنے والی خاندانی روایت نہیں سمجھتیں۔ سروے میں شامل 38 فیصد نوجوان لڑکیوں نے کہا کہ حجاب انہیں یہ ظاہر کرنے میں مدد دیتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اپنی مذہبی وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔ 2016 میں یہ شرح 23 فیصد تھی۔

مصنف کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض نوجوان خواتین کے لیے حجاب محض خاندانی روایت جاری رکھنے کے بجائے اپنی مذہبی شناخت کے اظہار اور اس پر فخر کا ذریعہ بن گیا ہے۔

تحفظ اور غیر ضروری توجہ سے بچاؤ

تاہم مذہبی شناخت پر فخر حجاب اختیار کرنے کی واحد وجہ نہیں ہے۔ بعض مسلمان فرانسیسی خواتین حجاب کو عوامی مقامات پر خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرنے کا ذریعہ بھی سمجھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 44 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ مردوں کی توجہ اپنی جانب مبذول نہ ہونے دینے کے لیے حجاب کرتی ہیں، 42 فیصد نے اسے تحفظ اور سلامتی کے احساس سے جوڑا، جبکہ 15 فیصد نے کہا کہ وہ اس لیے حجاب کرتی ہیں تاکہ دوسرے لوگ انہیں بے حجاب نہ سمجھیں۔

خاندانی دباؤ بنیادی وجہ نہیں

دوسری جانب ایسا نہیں لگتا کہ براہِ راست خاندانی دباؤ حجاب اختیار کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔ صرف انتہائی کم تعداد، یعنی 2 فیصد سے بھی کم خواتین نے کہا کہ وہ خاندانی دباؤ کی وجہ سے حجاب کرتی ہیں۔

اسی بنیاد پر یلدز کا کہنا ہے کہ ذاتی انتخاب اور سماجی دباؤ کے درمیان تعلق اس قدر پیچیدہ ہے کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کوئی خاتون یا تو اپنی مرضی سے حجاب کرتی ہے یا خاندانی دباؤ کی وجہ سے۔

نئی نسل کی شناخت اور مذہب سے تعلق

مصنف نے اس رجحان کو فرانس میں مسلمان نوجوانوں کے مذہب اور معاشرے کے ساتھ بدلتے تعلق سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ماحول میں جہاں اجتماعی وابستگی کی بعض روایتی شکلیں کمزور ہو رہی ہیں، مذہب بعض نوجوانوں کے لیے اقدار، اصول، وابستگی اور شناخت کا ایک فریم ورک فراہم کر سکتا ہے۔

شناخت کی تشکیل میں سوشل میڈیا کا کردار

مصنف کے مطابق سوشل میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ نوجوانوں کو ایسے آن لائن معاشروں اور گروہوں سے جوڑتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی وابستگی کا اظہار کر سکتے ہیں۔

مذہب سے تعلق میں نسل در نسل تبدیلی

رپورٹ کے مطابق فرانس میں نوجوان مسلمان لڑکیوں میں حجاب کا بڑھتا رجحان صرف حجاب تک محدود نہیں بلکہ نسل در نسل مذہب سے تعلق میں ایک وسیع تر تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ فرانس میں پیدا ہونے والی بعض نوجوان لڑکیاں اپنی ماؤں کی نسل کے مقابلے میں مذہب اور اپنے مذہبی عقائد کے کھلے اظہار کی جانب زیادہ مائل ہوئی ہیں۔

مضمون کے مطابق اس رجحان کو سمجھنے کے لیے کم از کم بعض نوجوان مسلمان فرانسیسی لڑکیوں کے حجاب کو مذہبی شناخت پر فخر، اپنی وابستگی کے اظہار اور بیک وقت تحفظ و سلامتی کے احساس کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ صرف روایت پسندی یا انتہا پسندی کی علامت کے طور پر۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha